مست ہوا
اردو
مست ہوا برباد ہوا عشق کا کلمہ یاد ہوا
دل پر لگ گیا نور کا پہرا نفس کا سر کچلا
عشق نے ہی دیوانہ بنایا عشق نے ہی مجھے لوٹا
پھر میں مست ہوا برباد ہوا عشق کا کلمہ یاد ہوا
من میں بسی قرب کی لذت نفس کی پیر بھی بھولا
ساتوں فرقے رات ہو گئے عشق کا جل گیا شولا
پگڑی سج گئی تسبیح مل گئی نور کا عکس چڑھا
عشق میرا تعویز بن گیا دل پر نخش ہوا
مجھ پر لگ گئی توہمت شہمت میں بدنام ہوا
رونا رولانا نور پلانا میرا کام ہوا
پھر میں مست ہوا برباد ہوا عشق کا کلمہ یاد ہوا
رشتے ناتے دور ہو گئے دشمن بن گئے لاکھوں
دنیا میرے پیچھے اور میں عشق کے پیچھے بھاگوں
عشق ہی تکیا عشق پلنگ ہے عشق ہی میرا بستر
عشق ہی اوڑوں عشق ہی پہنوں عشق ہی میری چادر
عقل والے مارے تانے یہ تو دیوانا ہے
میں تو عاشق ہوں لوگوں مجھے ڈوب کے جانا ہے
پھر میں مست ہوا برباد ہوا عشق کا کلمہ یاد ہوا
مست ہوا برباد ہوا عشق کا کلمہ یاد ہوا
نشید اسٹیشن کی حمایت کریں
ہم بڑے سرمایہ کاروں کی طرف سے فنڈ نہیں پاتے - صرف چند آزاد ڈویلپرز ہیں جو نشیدوں کے لیے ایک صاف، اشتہار سے پاک پلیٹ فارم بنانا چاہتے تھے۔ آپ کے عطیات اس پروجیکٹ کو زندہ اور بڑھنے میں مدد کرتے ہیں۔